تحریر : فدا حسین ساجدی
حوزہ نیوز ایجنسی I ۲۲بہمن محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام، ایک فکری مکتب اور ایک دائمی درس ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ایک قوم اپنے مقصد کو پہچان لے، دشمن کو سمجھے، صبر و استقامت کا دامن تھامے، بروقت اقدام کرے اور اتحاد کو اپنا شعار بنالے تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی درحقیقت انہی اصولوں کا عملی مظہر ہے، جو ہمیں قرآنِ کریم میں بار بار نظر آتے ہیں۔
دشمن شناسی ہر تحریک کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن ہمیں واضح طور پر متنبہ کرتا ہے کہ دشمن صرف ظاہری نہیں ہوتے بلکہ فکری، ثقافتی اور معاشی صورتوں میں بھی حملہ آور ہوتے ہیں۔ انقلابِ اسلامی کے رہنماؤں اور عوام نے بروقت یہ پہچان لیا کہ اصل خطرہ کون ہے اور اس کی سازشوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے۔ یہی بصیرت 22 بہمن کی کامیابی کی بنیاد بنی۔
استقامت وہ قرآنی اصول ہے جس کے بغیر کوئی جدوجہد بارآور نہیں ہوسکتی۔ قرآن فرماتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں۔ انقلاب کے دوران شدید دباؤ، قربانیاں اور مشکلات آئیں، مگر عوام نے ہمت نہیں ہاری۔ یہی صبر و استقامت آخرکار ظالم نظام کے خاتمے اور حق کی فتح کا سبب بنی۔
بروقت اقدام بھی قرآن کی ایک اہم تعلیم ہے۔ صحیح وقت پر درست فیصلہ تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔ 22 بہمن اس بات کی روشن مثال ہے کہ جب قیادت اور عوام نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر میدان میں قدم رکھا تو طاغوتی طاقتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔
اتحاد انقلاب کا سب سے مضبوط ستون تھا۔ قرآن ہمیں تفرقے سے بچنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے۔ 22 بہمن کے دن قوم نے نسلی، لسانی اور طبقاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اور یہی اتحاد ایک عظیم معجزہ بن گیا۔
اگر غور کیا جائے تو اسلامی انقلاب بذاتِ خود ایک قرآنی معجزہ ہے کم وسائل، ظاہری کمزوری اور عالمی طاقتوں کی مخالفت کے باوجود ایک باایمان قوم کا کامیاب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قرآنی اصولوں پر عمل کیا جائے تو اللہ کی نصرت شامل حال ہوتی ہے۔
22 بہمن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آج بھی اگر ہم دشمن کو پہچانیں، استقامت اختیار کریں، بروقت اقدام کریں اور اتحاد کو مضبوط رکھیں تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہی انقلاب کا پیغام ہے، یہی قرآن کی تعلیم ہے، اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ۔









آپ کا تبصرہ